بات کا پکا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - قول کا دھنی، وعدے میں اٹل۔ "تجھے عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ میں بات کا کتنا پکا ہوں۔" ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦٦:٦ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بات' اور اسم صفت 'پکا' کے درمیان کلمہ اضافت 'کا' لگنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩١ء میں "ایامٰی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قول کا دھنی، وعدے میں اٹل۔ "تجھے عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ میں بات کا کتنا پکا ہوں۔" ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦٦:٦ )
جنس: مذکر